Posts

حجاج بن یوسف کا انجام

 حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے" ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔ کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا: اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔ جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل ...

سمر قند

 #مسلمان_اور_عدالتی_نظام . ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔ پادری نے لکھا ! "ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک حملہ کر کے ہمیں مغلوب کر لیا گیا ہے۔ یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔ دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔ جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔ اُس نے لوگوں سے کہا م...

خالہ کی بیٹیاں اور معاشرا

 میری ایک ہی خالہ تھیں جو امی کی سوتیلی بہن تھیں اور ان دونوں بہنوں کا کوئی بھائی نہ تھا۔ والد صاحب، امی کو میکے والوں سے ملنے نہ دیتے تھے۔ جب تک نانا زندہ رہے میری ماں کا تھوڑا بہت تعلق میکے والوں سے رہا، ان کے بعد بالکل ختم ہو گیا۔ جب خالہ عظمت کی شادی ہوئی سال بعد ہماری نانی بھی انتقال کر گئیں۔ اب خالہ کا بھی سوائے امی کا اور کوئی رشتہ دار نہ رہا۔ وہ امی سے بہت محبت کرتی تھیں مگر ابا جان کی سخت مزاجی کی وجہ سے دونوں بہنوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا نہ تھا۔ خالو سر فراز بہت اچھے آدمی تھے۔ وہ خالہ عظمت سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کا اپنا کاروبار تھا، گھر میں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ خالہ بہت خوش و خرم زندگی بسر کر رہی تھیں۔ شادی کے چار سال بعد وہ دو بچیوں کی ماں بن گئیں۔ بڑی لڑکی کا نام شبانہ اور چھوٹی کا دردانہ تھا۔ خالہ خوبصورت تھیں۔ دونوں بچیاں بھی ماں پر گئی تھیں جبکہ خالو بھی وجیہ اور خوش شکل تھے۔ یہ صورت شکل سے خوبروئوں کا خاندان کہلاتا تھا۔ خالہ کی زندگی کے ابتدائی سال اچھے گزرے، پھر جانے کیا ہوا کہ خالو کچھ بُرے دوستوں کی سوسائٹی میں غلط راستوں پر چل نکلے۔ وہ اکثر کوٹھوں پر رق...

فرشتے کی مدد اور نوید کی خبر

Image
 

خوفناک جزیرہ

 خوفناک جزیرہ -  قسط:01 سراج انور میرا نام فیروز ہے، ایک غریب ماں باپ کا لڑکا ہوں، ابھی میری عمر صرف بائیس سال کی ہے۔ لیکن اس عمر میں ایسی ایسی تکلیفیں اور ایسی مصیبتیں میں نے جھیلی ہیں جن کو یاد کر کے کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔ ایسے عجیب و غریب واقعات اور اتنی حیرت انگیز باتیں مجھے اپنے سفر میں پیش آئی ہیں کہ میں انہیں اس وقت بیان کرتے ہوئے لرز رہا ہوں ۔ میری اب تک کی زندگی آفتوں اور تکلیفوں میں ہی بسر ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بڑا با ہمت ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں اپنی یہ داستان لکھ رہا ہوں ورنہ کسی دوسرے کے بس کا یہ کام نہ تھا ، کیوں کہ ایسی داستان کو لکھنے کے لئے انسان کے سینے میں پتھر کا دل ہونا چاہئے ۔ میں نے جس سفر کے بارے میں اوپر لکھا ہے وہ آج سے کوئی آٹھ سال پہلے شروع ہوا تھا ۔ میں دلی کے ایک ہوٹل میں بیرا تھا ، اس ہوٹل میں دنیا بھر کے سیاح آتے جاتے رہتے تھے ۔ اس لئے مجھے نئے نئے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہتا تھا ۔ جب یہ لوگ اپنے ملکوں کی باتیں کرتے تو میں بھی سنتا۔ یہ باتیں سنتے سنتے میرے دل میں بھی اشتیاق پیدا ہوتا کہ کاش کسی طرح میں بھی دوردراز کا سفر کروں! مجھے کیا ...

بادشاہ اور چلتی بس

 ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے. )1( اندھا )2( فقیر )3( عالم )4( عاشق. بادشاہ نے یہ مصرعہ کہہ دیا " اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں" اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرعہ لگا کر شعر پورا کرو. اندھے نے کہا: "اس میں گویائی نہیں اور مجهـ میں بینائی نہیں، اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں" فقیر نے کہا: "مانگتا پیسے مصور جیب میں پائی نہیں، اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں" عالم نے کہا: " بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں، اس لیے تصویر جاناں ھم نے بنوائی نہیں " عاشق نے تو کمال کی حد کردی... کہا: " ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں، اس لیے تصویر جاناں ھم نے بنوائی نہیں" اب آپ بھی اپنے انداز میں اس مصرع  کو مکمل کریں آغاز میں کر دیتا ھوں  چلتی بس چلتی بس میں نکاح لاہور ﺳﮯ آیبٹ آبادﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﻬﮍے ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﮑﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨ...