Posts

نبیلہ کی ترستی نگاہیں

 آج پہلی رات تھی بستر پہ پھول سجائے گئے تھے  نبیلہ اور کامران کی شادی ہوئی تھی  شادی بہت دھوم دھام سے کی گئی  نبیلہ بیڈ پہ بیٹھی تھی ھ کمیرہ مین تصاویر بنا رہا تھا وہ کبھی دائیں سر کر رہی کبھی بائیں طرف  سب لوگ نئے تھے ہر چہرہ اجنبی تھا  کامران پاس بیٹھا تھا  سب محلے والے دلہن دیکھنے آئے ہوئے تھے  نبیلہ نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی رات کے 12 بج چکے تھے وہ بہت تھک چکی تھی  بھوک سے برا حال تھا  سب چلے  گئے  دروازہ بند ہوا کامران نبیلہ کے پاس بیٹھا آپ ایسا کریں چینج کر لیں  تھک گئی ہوں گی  نبیلہ نے ڈریس  چینج کیا  بھوک سے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی  لیکن کیا کر سکتے تھے کامران کو اس کی تھکن سے کیا واسطہ تھا  وہ محبت بھری باتیں کہاں کرنا چاہتا تھا  نبیلہ کو اپنی مردانگی کا روب ڈالتے ہوئے ہوئے بولا  دیکھو مجھے تماشے اچھے نہیں لگتے  میری باتیں کام کھول کر سن لو  میں بار بار یہ باتیں نہیں بولوں گا  گھر کے سارے کام تمہارے ذمہ ہیں کھانا بنانے سے لیکر جھاڑو صفائی تک  سن رہی ہو نا ...

بادشاہ کا بیٹا اور استاد

 ایران کے بادشاہ نے اپنے بیٹے کو پڑھانے کے لیے ایک استاد صاحب کا بندوبست کیا استاد صاحب کو کہا کہ میرے بچے کو دین پڑھائیے میں چاہتا ہوں کل اس نے انعام حکومت کو سنبھالنا ہے تو یہ دین سے آگاہ ہو جائیں اس کو خود سکھائیے پڑھائیے ایک نیک بزرگ بڑے درویش آدمی بادشاہ کے بیٹے کو پڑھانے لگے اسباب مکمل ہو گئے  قران مجید پڑھایا احادیث طیبہ کا درس دیا اصول فقہ سے روشناس کرایا جب بچے نے مکمل تعلیم حاصل کر لی اور آمین ہو گئی دستار ہو گئی فارغ ہو گئے تو پھر ایک دن استاد صاحب نے کہا بیٹے کل تم نے ضرور آنا ہے کچھ بات کرنی ہے صبح شہزادہ استاد صاحب سے ملنے گیا تو استاد صاحب نے کنڈی لگا لی ہاتھ میں درہ پکڑ لیا اور مار مار کے پورے وجود کو زخمی کر دیا کوئی غلطی نہیں کی تھی کوئی بات نہیں تھی بلا وجہ بچے کو مارا بچہ بادشاہ سلامت کے پاس آیا اور کہا کہ آبا جی سمجھ نہیں آئی لیکن استاد نے بڑا مارا ہے بادشاہ سیانے تھے  سمجھدار تھے کہنے لگے بیٹا استاد باپ ہوتا ہے وہ زیادتی نہیں کرتا کوئی بات ہوگی میں تیرے استاد کو کٹہرے میں نہیں بلاؤں گا بچے نے والدہ سے بات کی تو اماں کہنے لگی بیٹا میں تیرے باپ سے کیسے...

معصوم فوجی

 *فوجی* *ایک دلچسپ داستان* *ایک  چھوٹی سی تحریر میرے فوجی بھائیوں کے کئے* *ہمارے ساتھ ایک نیا لڑکا بھرتی ہو کر آیا تھا اسے نہ جانے کیوں اتنا شوق تھا فوج میں آنے کا جنونی سا تھا پاگل*  اور خوبصورت اتنا تھا کے لکھوں تو بھی لکھ نہ سکوں اس کی شوخ سی آنکھوں میں ایک عجیب سی دیوانگی ٹپکتی تھی اس کے سرخ گلابی ہونٹ کیوٹ سی ناک مسکرانے پہ ڈمپل اس کی خوبصورتی کی خوشبو تھے رنگ زیادہ گورا نہیں تھا لیکن کشش اس قدر تھی کے جیسے کوئی جنت سے آیا فرشتہ ہے  پہلے دن اس کے ساتھ جان پہچان ہوئی گپ شپ لگائی چونکہ میں میجر تھا اور وہ کیپٹن ۔کیپٹن دانش نام تھا اس کا  تو میں نے کہا کیپٹن کل سے آپ چارج سنبھال لیں گے آپ ابھی آرام کر لیں سفر سے تھک گئے ہوں گے  روب دار آواز میں مجھے سلیوٹ کیا او۔کے سر سلام کیا اور چلا گیا  اس کی آواز میں بھی بھی ایک عجیب سا کچھ تھا  دوسرے دن پریڈ گراونڈ میں سب سے تعارف کروایا گیا اس کا اخلاق ایسا تھا کے جیسے کسی بے جان کو بھی سانسیں بخش سکتا تھا کسی دشمن کو بھی سینے سے لگا سکتا تھا  چارج سنبھالتے ہی اسے کیمپ کی کچھ ذمہ داریاں دی گئیں وہ اپن...

اور شاہدہ بچ گۂی

 مکمل کہانی۔۔۔۔۔ شاہدہ سولہ سترہ سال کی ایک حسین و جمیل لڑکی تھی- اس کا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے تھا- اس کا باپ ریلوے میں کلرک بھرتی ہوا تھا اور حالات بتا رہے تھے کہ وہ کلرک کی حثیت ہی سے ریٹائر ہوجائے گا- اس کا تعلق ان مردوں میں ہوتا تھا جو حالات کی چکی میں پس پس کر جمالیاتی حسن کو خیرباد کہہ چکے ہوتے ہیں اور ہر کام مشینی انداز میں کرتے رہتے ہیں- غصہ اور چڑچڑا پن ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں- ایسے لوگوں کی موجودگی ان کے ساتھ رہنے والوں کو ہر وقت ایک ذھنی اذیت سے دو چار رکھتی ہے- وہ خود پر سختی اور بدمزاجی کا ایک ایسا خول چڑھا لیتے ہیں کہ لوگ ان سے کسی بھی قسم کی باتیں کرنے سے گریزاں رہتے ہیں- شاہدہ کا باپ سخت طبیعت کا ضرور تھا مگر گھریلو معاملات میں دل چسپی لیتا تھا- جو کچھ کماتا تھا بیوی کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتا تھا- اسے بیوی اور بیٹی سے محبّت تو بہت تھی مگر وہ اظہار نہیں کرتا تھا- شاہدہ نے جب یہ کہا کہ وہ میٹرک کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھے گی تو اس نے دفتر سے قرض لے کر کالج میں اس کا داخلہ بھی کروا دیا تھا- شاہدہ کی ماں بھی اپنے کام سے کام رکھتی اور شوہر سے دوسری بیویوں کی طرح ...

ابو نصر صیاد کا صدقہ

 ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔ شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔ جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔ ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھا...

بات تو فیکے کمہار کی سچی ھے

 کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔ جانے کون ملنے آیا تھا۔۔ میں جانتا تھا فیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔ وھی ھوا شام کو ڈیرے پر آ کر بیٹھا ھی تھا کہ فیکا چلا آیا۔۔۔ حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔ صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ھے آپ کو یاد ھے ماسی نوراں ہوتی تھی وہ جو بٹھی پر دانڑیں بھونا کرتی تھی۔۔۔ جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔  میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ھوں۔۔۔ اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی، وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔  سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ ھوتی تھی۔۔۔  صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔  ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔  اک دن میں ادھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچار کھولا۔۔۔  صاحب جی اج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ھے نا۔۔۔ تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ھی یاد آتا ھے۔۔۔اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو...

جہنم کے ساتھ درجے

 ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں  ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے  اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے  چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے  تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا  جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا  جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا  اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگا...