ڈاکٹر سے منقول
پرانی بات ہے ، اس وقت نشتر میڈیکل کالج کا طالبعلم تھا۔ ایک دن ملتان سے تونسہ کی بس میں بیٹھا ۔ راستے میں ایک بابا کھجور کا ٹوکرا لیے بس میں سوار ہوا ، تین کالج کے لڑکے اس کے ٹوکرے سے کھجور اٹھا اٹھا کر کھانے لگے بابے نے منع کیا اور وہ نہیں مانے۔ وہ کہتا رہا کہ یہ میری روزی روٹی ہے ۔ میں دل میں تلملاتا رہا مگر پھر سوچا کہ بس میں اتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں کوئی تو لازمی روکے گا ۔ میں نے پیچھے دیکھا تو اکثر لوگوں نے اخبار اپنے آگے تان لیا تھا اور کچھ لوگ کھڑکی سے باہر دیکھنے کی اداکاری کر رہے تھے۔اتنے میں پیچھے سے ایک آواز آئی " استاد جی گڈی روک ایک مستری نما آدمی اپنی سیٹ پر کھڑا ہو گیا تھا . وہ آگے آیا اور ان لڑکوں کو گریبان سے پکڑ کر بس سے نیچے اتارا اور اپنی سیٹ پر واپس جا کر سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ تعلیم کا پہلا وار انسان کی بنیادی صفت شجاعت پر ہوتا ہے ۔ پھر جب عملی میں زندگی آیا تو اس بات کی تصدیق ہوئی ۔ ایمرجنسی میں کسی انجان زخمی کو لانے والے پروفیسر ، ڈاکٹر ، وکیل یا دانشور نہیں ہوتے تھے بلکہ یہی نیم خوانده کمزور طبقات والے لوگ ہوتے تھے ۔ مجھے جب بھی کسی لاوارث مریض کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ، تب بھی یہی " لونڈے لپاٹے " مدد کے لئے آتے۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی
(منقول)
Comments
Post a Comment