سالم غلام کا واقعہ

 ‏مدینہ میں ایک یہودی تھا وہ ملکِ شام گیا تاکہ تجارت کے لیے کچھ سامان خریدے۔ سامان خرید کر جب وہ واپس آ رہا تھا تو اس کی نظر ایک غلام پر پڑی جس کا رنگ بہت کالا تھا وہ کسی لحاظ سے بھی خریدنے لائق نا تھا۔ یہودی نے سوچا کہ اگر وہ اسے خرید لے اور اپنے شہر مدینہ میں جا کر مہنگے داموں بیچ سکتا ہے اور نفع کما سکتا ہے۔ ‏چنانچہ اس نے وہ غلام خرید لیا جس کا نام سالم تھا۔ مدینہ میں پہنچا اور سارا سامان تین دن میں بیچ دیا لیکن سالم کو خریدنے والا کوئی نہیں تھا ہر کوئی اس کی شکل و صورت دیکھ کر نظر انداز کردیتا تھا۔ یہودی نے غلام سالم سے کہا کہ وہ سامان پکڑ کے دھوپ میں کھڑا ہوجائے تو لوگ یہ سمجھیں کہ غلام بہت محنتی ہے اور دھوپ میں بھی کام کرتا ہے تو وہ خرید لیں گے۔ سالم نے ایسا ہی کیا لیکن لوگ ہوشیار تھے انہیں پتا چل گیا کہ یہ غلام محض مالک کے حکم پہ کھڑا ہے۔ مدینہ میں ایک خاتون تھیں جو اپنی خدا ترسی کی وجہ سے مشہور تھیں انھوں نے جب غلام کو دیکھا تو اسے خرید لیا اس خاتون کا نام فاطمہ تھا۔ ‏مکہ سے ایک صاحب مدینہ آئے جن کا نام حذیفہ تھا لوگوں نے انھیں مشورہ دیا کہ فاطمہ بہت پاکباز اور خدا ترس خاتون ہیں آپ ان سے شادی کرلیں۔ حذیفہ نے تسلیم کرلیا اور فاطمہ سے شادی کر کے واپس مکہ روانہ ہوگئے سالم غلام بھی ساتھ چلا گیا۔ ‏مکہ پہنچ کر حذیفہ نے اپنے دوست عثمان بن عفان سے ملاقات کی اور اسے خوشخبری دی کہ میں نے مدینہ میں ایک خاتون سے شادی کرلی ہے جو بہت اچھی خاتون ہیں اور اپنی پاکبازی کی وجہ سے مشہور بھی ہیں لیکن عثمان نے اپنے دوست حذیفہ کی بات پر خاص توجہ نہ دی۔ ‏اس بے رخی کی وجہ سے حذیفہ کو رنج ہوا اور انھوں نے اپنے دوست سے اس کی وجہ پوچھی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور تم مسلمان نہیں ہو لہذا ہماری دوستی نہیں رہ سکتی۔ ‏حذیفہ جانتے تھے کہ عثمان بہت سمجھدار انسان ہیں وہ کوئی بے فائدہ کام نہیں کرسکتے لہذا اپنے دوست کو کہا کہ میں بھی اسلام قبول کروں گا اور اپنی زوجہ فاطمہ اور غلام سالم کے ساتھ اسلام قبول کرلیا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین میں بیان فرمایا جس میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت بیان کی۔ فاطمہ نے گھر آ کر سالم کو آزاد کردیا لیکن سالم نے کہا میرا ملک شام بہت دور ہے آپ لوگ بہت اچھے ہیں اس لیے میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا چنانچہ حذیفہ نے سالم کو اپنے پاس رکھ لیا اور سالم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھیجنے لگے۔ سالم قرآن کی تعلیم حاصل کرنے لگےوقت گزرتا گیا۔

‏ایک بار یوں ہوا کہ وہ مسجد میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کا قرآن سن کر کہا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں سالم جیسے لوگ پیدا کیے۔ اتنی بڑی تعریف تھی کہ اس سے پہلے کسی کے لیے نہیں کی گئی تھی۔ ‏ہجرت کا حکم آیا اور سالم نے بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی  مدینہ جا کر وہاں کی سب سے پہلی مسجد،م مسجد قبا کے امام مقرر ہوگئے لوگ رشک کرنے لگے کہ ایسا غلام جسے کوئی خریدنے کو تیار نہ تھا آج مسجد قبا کا امام بن گیا ہے۔ ‏پھر وقت گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی خلیفۂ رسول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ بھی گزرا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت بھی قریب ہوا اس وقت سالم دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ ‏سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اگر سالم زندہ ہوتے تو مجھے امیر بنانے میں کوئی مشقت نہ ہوتی (یعنی میں انھیں امیر المؤمنین بنا دیتا) کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے "سالم کا دل اللہ کی محبت سے بھرا ہوا ہے" ‏سبق یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے لوگوں کو عزت بھی ملتی ہے اور ذلت بھی جو قرآن سیکھ جاتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ ایسی حکمرانی عطا کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ سالم جن کو کوئی غلام کی صورت میں خریدنے کو تیار نہیں تھا انھیں قرآن نے کیسی عزت سے نوازا۔


پوسٹ کو لائک اور شیئر ضرور کیا کریں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے شُکریہ ۔

Comments